حسبی ربی جل اللہ ما فی قلبی غیر اللہ
نور محمد صلی اللہ لا الہ الا اللہ
اول آخر اللہ ۔ ظاہر باطن ہے اللہ
حافظ و ناصر ہے اللہ ۔ لا الہ الا اللہ
کون و مکاں میں ہے اللہ، دونوں جہاں میں ہے اللہ
جسم میں جاں میں ہے اللہ ، لا الہ الا اللہ
اعلی جس کی ذات وہی، اعلی جس کی صفات وہی
رکھی جس نے بات وہی ، لا الہ الا اللہ
حسبی ربی جس نے کہا، فیض کے دریا کو پایا
گوہر مقصد ہاتھ آیا ۔ لا الہ الا اللہ
کھل جائیں در جنت کے دوزخ کی سب آگ بجھے
دل سے کوئی اک بار کہے لا الہ الا اللہ
عرض غلام فقیر اب داخل رحمت ہوں ہم سب
ذکر قبول ہو یہ یا رب ، لا الہ الا اللہ
یہ کلمہ حق سے ملتا ہے یہ مردوں دلوں کو جلاتا ہے
جنت کی راہ دکھاتا ہے لا الہ الا اللہ
صدقہ زہرا آل بتول ہم کو عطا عشق رسول
ہو یہ دعا سب کی مقبول لا الہ الا اللہ
دیکھتے کیا ہو اہل صفا، آ پہنچے محبوب خدا
یعنی ہو چکے جلوہ نما، لا الہ الا اللہ
خلق کے رہبر آپہنچے حق کے پیمبر آپہنچے
شافع محشر آپہنچے ساقی کوثر آپہنچے
ساقی کوثر بحر خدا آج تو ایسا جام پلا
اُٹھ جائے ہردہ جدائی کا جلوۂِ زیبا ہم کو دکھا
جسم سے ہو جب جان جدا ہم کو ملے فردوس میں جا
لُوٹیں ہم قربت کا مزا تیری اے محبوب خدا
جنت کی جب سیر کریں ہم بھی سب ہمراہ چلیں
حوض ِ کوثر پر پہنچیں ہاتھ سے آپ کے جام پئیں
جو اِس بزم میں شامل ہو اس پر رحمت نازل ہو
جس گھر میں یہ محفل ہو عزت و برکت داخل
0 Comments