40-ہمارے ہاں وقت یہ ہے کہ جو علماء صاحبان ہیں ، وقت کے تقاضوں سے بے خبر ہین اور جو لوگ عظیم ہیں وہ احکام شریعت سے غافل نظر آتے ہیں۔


41- دنیادار کے لئے جہاں صبر کا حکم ہے وہاں اللہ کے بندوں کو شکر کا حکم ہے۔


42-جو تمہیں اچھا لگتا ہے، تم بھی اسے ضرور اچھے لگتے ہو۔


43-کسی پسندیدہ چیز کے چھن جانے یا پھر کسی نا پسندیدہ چیز کے آجانے کو خوف کہتے ہیں۔


44-جو شخص پر وقت ایک ہی خیال میں رہے، اسے نہ آنے والے واقعات کا ڈر ہے اور نہ ماضی میں ہونے والے عمل کا ۔


45-ماضی اختیار سے باہر ہوتا ہے، مستقبل غیر یقینی ہوتا ہے، حال کا لمحہ انتا اہم ہے کہ اس کے ذریعے ماضی بھی درست ہو سکتا ہے اور مستقبل بھی۔ گنہگار ماضی ، حال کی توبہ کر کے نیک بن جاتا ہے،آنے والے اندیشے حال میں توبہ کرنے سے بہتے ہو سکتے ہیں