علماء کی توہین کرنے والوں کا انجام ؟؟
حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کی بے اکرامی کرنے والے کی لاش تک نہ ملی ۔
مولانا ابو الحسن صاحب بارہ بنکوی تحریر فرماتے ہیں
اس واقعہ کے راوی جالندھر کے ایک نوجوان مولوی محمد اکرم صاحب قریشی ہیں جو حمید نظامی مرحوم کے جگری دوست مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن میں ان کے دست و بازو اسلامیہ کالج کے فارغ اور لیگ کے آغاز سے آج تک اس کے حامی چلے آئے ہیں ، وہ مولانا مدنی اور ان کے مدرسۂ فکر کے کبھی ہم خیال نہیں رہے بلکہ ان نوجوانوں میں سے تھے جنہیں جالندھر میں لیگ کا ہراول دستہ کہا جاتا تھا.......
اس واقعہ کے راوی یہی محمد اکرام قریشی ہیں جن کو لاہور میں ڈاکٹر بھی کہتے تھے اور آج کل بیڈن روڈ لاہور میں رہ رہے ہیں ان کی روایت کے مطابق اس واقعہ کے کئی راوی اب تک بقید حیات ہیں ان کا بیان ہے کہ ابھی پاکستان نہیں بنا تھا اور 1946ء کے انتخابات کا زمانہ تھا مولانا حسین احمد مدنی پنجاب یا سرحد کے سفر سے واپس جارہے تھے جالندھر کے اسٹیشن پر یہی نوجوان مسٹر شمس الحق کی ہمراہی میں اپنے رہنماؤں کے استقبال کے لیے گئے ہوئے تھے رہنما کسی وجہ سے نہ پہنچ سکے شمس الحق کی نظریں مولانا مدنی پر پڑ گئیں وہ اپنے ساتھ کے نوجوانوں کو لے کر ان کے ڈبے پر چڑھ دوڑا نعرے لگائے سب و شتم کیا حتیٰ کہ ڈاڑھی مبارک کو پکڑ کر کھینچا ایک بیان کے مطابق رخسار پر طمانچہ بھی مارا مولانا صبر کی تصویر تھے آہ تک نہ کی اس کارنامہ کے بعد شمس الحق یا اس کے کسی ساتھی نے یہ واقعہ مولانا عظامی سے بیان کیا جو جالندھر لیگ کے نائب صدر تھے انہوں نے سنتے ہی کانپ کر پوچھا کیا یہ صحیح ہے جب تصدیق کی گئی تو ان پر رعشا سا طاری ہوگیا اکرام قریشی کہتے ہیں کہ وہ کانپ رہے تھے اور انہوں نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا اگر یہ سچ ہے تو جس نے حضرت مدنی کی ڈاڑھی پر ہاتھ ڈالا ہے اس کی لاش نہیں ملے گی.... اس کو زمین جگہ نہیں دے گی.... عظامی کانپ رہے تھے ان کا چہرہ اشکبار تھا اور آنکھیں پرنم تھیں آپ جانتے ہیں کہ یہ شمس الحق کون تھا یہ وہی نوجوان ہے جو لائل پور میں قتل و خون کا شکار ہو گیا جس کی لاش کا پتہ نہ چلا... کفن میلا نہ قبر.... اس واقعہ کو تقریباً گیارہ بارہ سال ہوچکے ہیں روایتوں پر روایتیں آتی رہی ہیں کسی نے کہا کہ بھٹہ میں زندہ جلا دیا گیا کسی نے کہا لاش کے ٹکڑے کر کے دریا برد کر دیا گیا الغرض جتنے منہ اتنی باتیں پولیس نے انعام بھی رکھا لیکن شمس الحق کا سراغ نہ ملا (1)
(ہفت روزہ چٹان لاہور مارچ 1963)
قارئین محترم.! ہم نے تاریخِ عالم سے یہ چند واقعات نقل کئے ہیں سب کا تذکرہ نہ مقصود ہے اور نہ ہی سب کا استقصاء ممکن ہے غرض یہ ہے کہ یہ واقعات ببانگ دہل بتلا رہے ہیں کہ اللہ والوں سے عداوت و دشمنی کا نتیجہ دین و دنیا کی بربادی کے سوا کچھ نہیں ہوتا.
حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ (م1323ھ / 1905ء) فرماتے ہیں جو لوگ علمائے دین کی توہین اور ان پر طعن و تشنیع کرتے ہیں انکا قبر میں قبلہ سے منہ پھیر دیا جاتا ہے جس کا جی چاہے قبر کھول کر دیکھ لے (2)
جواہر پارے جلد اوّل صہ 61/62
بحوالہ:
1۔ شیخ الاسلام کے حیرت انگیز واقعات ؛
2۔ حکایاتِ اولیاء ؛
سبق آموز کہانی,
بچوں کی سبق آموز کہانیاں,
بچوں کے لیے سبق آموز کہانیاں
0 Comments