101-جو شخص کہتا ہے کہ میں کل خوش ہو جاؤں گا، وہ کبھی خوش نہیں ہو گا۔
102-سخی تب سخاوت کر سکے گا جب سائل بھی موجود ہو۔
103-اچھے عمل کی یاد کو ایک برا لفظ ہمیشہ کے لیے تباہ کر سکتا ہے۔
104-کسی کو اس کے حق سے زیادہ دینا احسان کہلاتا ہے۔
105-سائل بخیل کو سخی بنانے کے لیے آتا ہے۔
106-جب مذکور تک پہنچ جاؤ تو پھر ذکر نہ کرنا۔
107- اگر صاحب مرتبہ شخص لوگوں کی خدمت میں مصروف ہو تو سمجھو کہ اس کا یہ مرتبہ انعام ہے۔
108-گداگر وہ ہوتا ہے جوہر روز ایک مقام پر ایک جیسی صدا لگاتا ہے۔
109-جانوروں اور انسانوں میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ جانوروں کو نہ ماضی کی یاد رہتی ہے اور نہ مستقبل کا خیال۔
110-سورج کو نمایاں ہونے کے لئے تاریکی درکار ہے۔
111-جتنے عظیم لوگ تھے وہ غیر عظیم زمانوں میں آئے۔
112-جس کو آپ یاد کر رہے ہیں وہ بھی کسی نہ کسی صورت میں آپ کو یاد کر رہا ہے۔
113-جھوٹا آدمی اگر سچ بھی بولے تو وہ سچ بے اثر ہو جائے گا۔
114-علم اور عمل کے درمیان فاصلہ کم کرنا شریعت بھی ہے اور ولایت بھی۔
115-اگر مرتبہ مل جائے اور استعداد نہ ہو تو اس سے بڑی آزمائش کوئی نہیں۔
116-خوراک تھوڑی کھائیں تو طاقت ملے گی خوراک زیادہ کھائیں تو طاقت چھن جائے گی
117-اگر علم امل کا شاہد نہ ہو تو وہ علم حجاب اکبر ہے۔
118-اللہ کا بڑا کرم ہے کہ اس نے ہمیں بھولنے کی صفت دی ہے ورنہ ایک غم ہمیشہ کے لیے غم بن جاتا۔
119-نااہل کو اہلیت کا مقام مل جائے تو اس کی جاب بھی خطرے میں ہوگی اور ایمان بھی۔
120-مفید چیز مقدار میں بڑھ جائے تو غیر مفید ہو جاتی ہے۔
121-گناہگار کا گناہ عاجزی پیدا کر رہا ہو تو وہ بچ سکتا ہے۔
122-چھوٹی نیکی کو کبھی چھوٹی نیکی نہ سمجھنا اور چھوٹے گناہ کو کبھی چھوٹا گناہ نہ سمجھنا۔
123-اگر یہ پتہ ہو کہ تھوڑی دیر بعد سب بکرے ذبح ہو جائیں گے تو اب کیا لڑنا۔
124-آج اتنا مشکل دور ہے کہ اس مین نیکی نہیں ہو سکتی پھر بھی مساجد بھری پڑی ہیں۔
125-بدی کا موقع ہو اور بدی نہ کرو تو یہ بہت بڑی نیکی ہے۔
126-اللہ کے خوف سے اپنی زندگی سے وہ کام نکال دو جا اللہ کے خوف کا باعث ہو سکتا ہے۔
127-اگر ایک ہاتھ اللہ کے لئے رکھ دو تو سارا عجود ہی اللہ کے لئے ہو جائے گا۔
128-دو راستوں میں سے ایک چننا پڑتا ہے دعا کرو کہ ایک ہی راستے کا سفر ملے۔
129-پیسہ آتا ہے غرور دینے کے لئے اور جاتا ہے مسکینی دے کر۔
130-آپ کی قیامت اس دن آجائے گی جس دن آپ نہیں ہوں گے۔
131-دعا کرو تم اس عبادت سے بچ جاؤ جس میں اللہ کا قرب نہ ملے۔
132-شیطان اس لئے شیطان بنا کہ اس نے عبادت کو تو ناما لیکن معبود کو نہ مانا۔
133-اگر اللہ معاف کر دے تو گناہ کیا ہے؟ اگر اللہ نا منظور کر دے تو نیکی کیا ہے؟
134-اگر آپ نے کسی کو قبول نہیں کیا تویہ سمجھ لیں کہ کسی نے آپ کو قبول نہیں کیا۔
135-اپنے آپ کو بد نصیب کہنے کے گناہ سے بچتے رہو۔
136-ہم خیال لوگ ہم خیال ہو جائیں تو سفر آسان ہو جاتا ہے۔
137-عبادت سے مکمل تزکیہ نفس نہیں ہوتا بلکہ عبادت سے خطرہ نفس ٹل جاتا ہے۔
138-لوگوں سے الگ رہ کر سوچو گے تو لوگوں سے الگ سوچ مل جائے گی۔
139-اپنے پر غرور بھی نہ کرو اور اپنے تحقیر بھی نہ کرو۔
140-عبادت نجات تک پہنچاتی ہے اور عشق نبی (ص) تک پہنچاتا ہے۔
141-بیٹا میرے بعد گھر میں ایسے رہنا جس طرح میری موجودگی کے وقت رہتے ہو۔
142-انسان کے پاس جتنے امکانات ہیں وہ سب کے سب اس لئے بھی نہیں پورے ہو سکتے کہ زندگی کے اپنے ٹھہرنے کے امکانات کم ہیں۔
143- دو منصوبوں پر کام یکسوئی سے محرورم کر دیتا ہے۔
144-ہمارا ہونا کس کام کا اگر ہمارے نہ ہونے کا کسی کو کچھ فرق نہ پڑے۔
145-بولنے والی زبان سننے والے کان کی محتاج ہے۔
146-جوشخص دعا کا طالب ہے ،وہ خدا کا طالب ہے۔
147-الفاظ ہی کے دم سے انسان کو جانوروں سے زیادہ ممتاز بنایا گیا۔
148-ہر آغاز کا ایک انجام ہوگا اور ہر انجام کسی آغار پر منتج ہو گا۔
149-انسان کو انسانوں پر رعب جمانے ار انہیں جھڑکی دینے کا کوئی حق نہیں ۔ یہ نقلی استحقاق صرف غرور نفس کا دھوکا ہے اور غرور کسی انسان میں اس وقت تک نہیں آ سکتا جب تک وہ بد قسمت نہ ہو۔
150-ضمیر کی آواز نہ تو ظاہری زبان سعے دی جا سکتی ہے اور ہی ان کانوں سے سنائی دے سکتی ہے۔
0 Comments