1-غم کتنا ہی سنگین ہو نیند سے پہلے تک ہے۔


2- کائنات کا کوئی غم ایسا نہیں ہے جو آدمی برداشت نہ کر سکے۔


3- مرنے کا بعد زندہ ہونے کی خوشی صرف اسی شخص کو ہو سکتی ہے جو اس زندگی میں کوئی کام کر رہا ہو۔ جو اس زندگی میں کوئی کام کر رہا ہو تو اسے مرنے کا خوف نہیں ہوتا


4-جوانی سولہ سال کی عمر کا نام نہیں، ایک انداز فکر کا نام ہے، ایک انداز زندگی کا نام ہے، ایک کیفیت کا نام ہے ۔ یہ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص سولہ سال میں بوڑھا ہو اور ایک شخص ساٹھ سال میں جوان ہو۔


5-سانس کی موت سے پہلے بہت سی موتیں ہو چکی یوتی ہیں، ہم سانس کو موت سمجھتے ہیں حالانکہ سانس تو اعلان ہے ان تمام موتوں کا جو آپ مر رہے ہیں


6-جس انسان کی آنکھ میں آنسو ہیں وہ انسان اللہ سے بچ نہیں سکتا ا۔ انسان کا اللہ سے قریب ترین رشتہ آنسوؤں کا ہے


7-غم چھوٹے آدمی کو تؤڑ دیتا ہے ۔ اگر غم میں غم دینے والے کاخیال رہے تو پھر انسان بہت بلند ہوجاتا ہے۔


8-دنیا کے اندر سب سے بڑا انصاف یہ ہے کہ یہ دنیا گناہ کے متلاشی کے لئے گناہ دیتی ہے اور فضل کے متلاشی کو فضل دیتی ہے۔


9-جس کو صداقت اور نیکی کا سفر کرنے کی خواہش ہے وہ جان لے کہ یہ منظوری کا اعلان ہے ۔ جس کو منظور نہیں کیا جاتا اس کو یہ شوق ہی نہیں ملتا۔


10- جو بات آپ کے دل میں اتر گئی وہی آپ کا انجام ہے، اگر آپ کو موت آجائے تو جس خیال میں آپ مریں وہی آپ کی عاقبت ہے۔


11-جو آدمی موت سے نہیں نکل سکتا وہ خدا سے کیسے نکل سکتا ہے۔


12-اپنی ہستی سے زیادہ اپنا نام نہ پھیلاؤ، نہیں تو پریشان ہو جاؤ گے۔


13- دور کا کوئی ایسا مقام نہیں ہے جو قریب نہ آسکے۔


14-استعداد سے زیادہ کی تمنا ہلاکت ہے اور استعداد سے کم خواہش آسودگی ہے۔


15- حق کیا ہے استعداد کے مطابق حاصل، احسان کیا ہے حق سے زیادہ حاصل، محرومی کیا ہے حق سے کم حاصل۔


16-آنسو قرب کا ثبوت ہیں، جب روح کا روح سے وصال ہوتا ہے تو آپ کو آنسو آجاتے ہیں۔


17-منافق وہ ہے جو اسلام سے محبت کرے اور مسلمانوں سے نفرت۔


18-جس چیز کو ہم باعث عزّت سمجھ رہے ہٰن اس کی موجودگی میں لوگ ذلیل ہیں۔


19-آپ کے سانس گنتی کے مقرر ہو چک ہیں ، نہ کوئی حادثہ آپ کو پہلے مار سکتا ہے، نہ کوئی حفاظت آپ کو دیر تک زندہ رکھ سکتی ہے۔


20- جھوٹے معاشرے میں عزت کے نام سے مشہور ہونے والا آدمی دراصل ذلت میں ہے۔