-جائے تو چوبیس کھنٹے بعد وہ کائنات کو جوں کا توں واپس کر دے۔(یہ جملہ نا مکمل ہے اسکی تصحیح کی ضرورت ہے)
22-دعا یہ کرو کہ اے اللہ جو تو نے دینا ہے وہ بغیر مانگے دے اور جو کچھ تو نے نہیں دینا اس کے مانگنے کی توفیق ہی نہ دے۔
23-فانی کی محبت فنا پیدا کر دے گی ، باقی کی محبت بقا پیدا کرے گی۔ فانے کی محبت دل سے نکال دو تاکہ آپ کو بقا کا راستہ ملے۔
24-معاشرکو انسان کو جنم دیتے ہیں اور انسان معاشرے کو جنم دیتا ہے۔
25-جب آپ أپنے ماضی کو حال پر فوقیت دیتے ہیں تو آپ مذہبی آدمی بن جاتے ہیں ، جب مستقبل کو فوقیت دیتے ہیں تو پھر سائنسی آدمی ہو جاتے ہیں۔ سائنس ماضی سے نجات پاتی ہے جب کہ مذہب ماضی کی طرف رجوع کرتا ہے۔
26-جو کسی مقصد کے لئے مرتے ہیں وہ مرتے نہیں اور جو بے مقصد جیتے ہیں وہ جیتے نہیں۔
27-وہ شخص مر گیا جو سکی کے دل میں نہ رہا۔آدمی کب مرتا ہے، جب دل سے اترتا ہے۔ زندہ کب ہوتا ہے جب دل میں اترتا ہے۔
28-ایسا کوئی نہیں ملے گا جو اسلام کی ایسی تعریف پیش کرے جس سے سارے پاکستانی مسلمان ثابت ہو جائیں۔ نا ممکن ہے۔ آدھے لوگ تو ضرور کافر ثابت ہوتے ہیں۔
29-مسلمان وہ ہے جو ہندو کی نگاہ میں مسلمان ہو۔
30-ادب ہی قرآن کا حافظ ہوتا ہے، جس نے قرآن کا ادب کیا وہی قرآن کا حافظ ہے۔ اگر ادب نہ ہو تو سینے سے قرآن صاف ہو جائے گا۔
31-پسندیدہ چیز سے جدائی موت پے۔ جن کی پسندیدہ
چیزیں موت سے پرے ہیں ان کو مرنا آسان ہے۔ جن کی پسندیدہ چیزیں یہاں رہ جائیں گی ان کے لئے موت مشکل ہے۔
32-غصہ ایسا شیر ہے جو تمہارے مستقبل کو بکرا بنا کر کھا جاتا ہے۔
33-جس سے طاقت ملتی ہے اس سے کمزوری ملتی ہے۔ جس کو سیاست میں عزّت ملے گی اس کو سیاست میں ذلت ملے گی۔ جس کو دوست کی طرف سے عزت ملے گی اس کو دوست ہی کی طرف سے ذلت ملے گی اور جس کو اللہ کی طرف سے عزت ملی تو اسے عزت ہی ملے گی اور اگر ذلت ہے تو اللہ ہی کی طرف سے ہے۔وہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے۔
34-اللہ تعالٰی کا تقرب جنت ہے اور اللہ تعالٰی سے دوری دوزخ ہے، عشق نبی (ص) جنت ہے اور عشق نبی (ص) سے دوری دوزخ ہے۔
35- جب موت سے پہلے موت کا مقام سمجھ آجایے تو موت کے بعد ملنے والے انعام موت سے پہلے ملنا شروع ہو جاتے ہیں۔
36-اگر تیری نسبت باقی کا ساتھ ہو گئی تو تو باقی ہو جاہے گا۔ اب تیری نسبت فانی کے ساتھ ہے، اس لیے تو فانی ہے۔فنا سے نسبت اٹھا کے بقا میں لگا دے تو سب آسان ہو جائے گا۔
37-اگر تذبذب کو تسلیم میں داخل کر دو تو موت سے پہلے مرنے کی بات سمجھ میں آجائے گی۔
38-تصورِ شیح کا مطلب یہ ہے کہ آپ جو بھی کام کر رہے ہیں اگر شیخ موجود ہوتا تو وہ اس کام کو کیسا کرنا پسند کرتا۔ یعنی ایسی کیفیت ہے کہ آپ جو بھی کام کر رہے ہیں، شیخ کی عدم موجودگی میں بھی اس کی مرضی کے مطابق ہو۔
39-چور ضرورت کا نام ہے، بندہ اندر سے برا نہیں ہوتا۔ضرورت برا کرتی ہے اور ضرورت ہی نیک کرتی ہے۔ ضروررت نکال دو ، بندہ ٹھیک۔
40-ہمارے ہاں وقت یہ ہے کہ جو علماء صاحبان ہیں ، وقت کے تقاضوں سے بے خبر ہین اور جو لوگ عظیم ہیں وہ احکام شریعت سے غافل نظر آتے ہیں۔
0 Comments