تضمین کلام : امام الکلام کلام الامام حضور سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللّٰه تعالٰی علیه 



مرحبا مخلوق پہ رحمت رَسُوْلُ اللّٰه کی

ہر زمانے میں رہی شہرت رَسُوْلُ اللّٰه کی

کیا زمین و آسماں جنّت رَسُوْلُ اللّٰه کی


عرشِ حق مسندِ رِفعت رَسُوْلُ اللّٰه کی

دیکھنی ہے حشر میں عزّت رَسُوْلُ اللّٰه کی


نور کے آبِ رواں میں بِیل بوٹے نور کے

نور کی روشن فِضا میں سارے جلوے نور کے

رقص فرمائیں گے آنکھوں میں نظارے نور کے


قبر میں لہرائیں گے تاحشر چشمے نور کے

جلوہ فرما ہو گی جب طلعت رَسُوْلُ اللّٰه کی


جن کی ذاتِ پاک تخلیقِ دو عالم کی بِنا 

جن کے صدقے میں ہوئی مقبول آدم ؑکی دعا

کہہ دیا ہے جن کو رب نے شافعِ روزِ جزا


وہ جہنم میں گیا جو اُن سے مُستغنی ہوا

ہے خلیل اللّٰه کو حاجت رَسُوْلُ اللّٰه کی


ننگی دی ہے تیرے روز و شب وہابی دُور ہو

ہے جُدا ہم سے تیرا مذہب وہابی دُور ہو

تُو رہا شیطاں کا ہم مقطب وہابی دُور ہو


تجھ سے اور جنّت سے کیا مطلب وہابی دُور ہو

ہم رَسُوْلُ اللّٰه کے جنت رَسُوْلُ اللّٰه کی


اِک سراپا معجزہ خود آپ کی ہے ذاتِ پاک

آپ کے منکر کی قسمت ہے عذابِ دردناک

آپ کو جو اپنے جیسا بولے اُس کے منہ میں خاک


سورج اُلٹے پاؤں پلٹے چاند اِشارے سے ہو چاک 

اندھے نجدی دیکھ لیں قدرت رَسُوْلُ اللّٰه کی


کیا مقام و مرتبہ ہے صاحبِ معراج کا

اللّٰه اللّٰه آفریں صد آفریں صد مرحبا

اختیارِ سرورِ دیں کوئی دیکھے تو ذرا


لَا وَرَبِّ الْعَرْش جس کو جو مِلا اُن سے مِلا

بٹتی ہے کونین میں نعمت رَسُوْلُ اللّٰه کی


ہاں ہر اِک ظاہر سے پہلے اے نظیر اُن کا ظَہُور

جن سے بہر و ماہ و انجم کر رہے ہیں قسمِ نور 

اعترافِ نا رسائی ہے مَسَاقِ باشعور


اے رضا خود صاحبِ قرآں ہے مدَّاحِ حضور 

تجھ سے کب ممکن ہے پھر مدحت رَسُوْلُ اللّٰه کی