میں تو خود اُن کے در کا گدا ہوں، 

اپنے آقا کو میں نظر کیا دوں، 

اب تو آنکھوں میں بھی کچھ نہیں ہے، 

ورنہ قدموں میں آنکھیں بچھا دوں،

آنے والی ہے اُن کی تاریک 

پھول نعتوں کے گھر گھر سجا دوں، 

میرے گھر میں اندھیرا بہت ہے 

اپنی پلکوں پہ شمعیں جلا دوں،

روظہء پاک پیشِ نظر ہے 

سامنے میرے آقا کا در ہے، 

مجھکو کیا کچھ نظر آ رہا ہے 

تم کو لفظوں میں کیسے بتا دوں،

میرے آنسو بہت قیمتی ہیں 

ان سے وابستہ ہیں اُن کی یادیں،

ان کی منزل ہے خاکِ مدینہ 

یہ گوہر یوں ہی کیسے لٹا دوں،

میں فقط آپ کو جانتا ہوں 

اور اُسی در کو پہچانتا ہوں، 

اس اندھیرے میں کس کو پکاروں 

آپ فرمائیں کس کو صدا دوں،

قافلے جا رہے ہیں مدینے 

اور حسرت سے میں تک رہا ہوں، 

یا لپٹ جاؤں قدموں سے ان کے 

یا قضا کو میں اپنی صدا دوں،

میری بخشش کا ساماں یہی ہے 

اور دل کا بھی ارماں یہی ہے، 

ایک دن اُن کی خدمت میں جا کر

اُن کی نعتیں اُنھی کو سنا دوں،

مجھ کو اقبال نسبت ہے اُن سے 

جن کا ہر لفظ جانِ سکون ہے، 

میں جہاں نعت اپنی سنا دوں 

ساری محفل کی محفل جگا دوں،


💖✨صلی الله علیہ وآلہ وبارک وسلّم✨💖