*قسمت میری چمکائیے چمکائیے آقا*
قسمت میری چمکائیے چمکائیے آقا
مجھ کو بھی در پاک پہ بلوائیے آقا
سینے میں ہو کعبہ تو بسے دل میں مدینہ
آنکھوں میں مری آپ سما جائیے آقا
بے تاب ہوں بے چین ہوں دیدار کی خاطر
تڑپائیں نہ اب خواب میں آ جائیے آقا
سکرات کا عالم ہے شہا دم ہے لبوں پر
تشریف سرہانے مرے اب لائیے آقا
وحشت ہے اندھیرا ہے مری قبر کے اندر
آکر ذرا روشن اسے فرمائیے آقا
مجرم کو لئے جاتے ہیں اب سوئے جہنم
لللہ شفاعت مری فرمائیے آقا
*عطار* پہ ہو بہر رضا اتنی عنایت
ویرانہ دل آکے بسا جائیے آقا
0 Comments