میرا گدا میرا منگتا میرا غلام آئے

خدا کرے کبھی طیبہ سے یہ پَیَام آئے



میں اِس یقین سے آیا تھا اُن کے روضے سے

وہ پھر کہیں گے کہ واپس میرا غُلام آئے



غُلامِ زہرہ ہوں میں تو علی کا نوکر ہوں 

ہمیشہ پنجتنی نِسبت میرے تو کام آئے



 مجھے اعزاز یہ کافی ہے اے میرے آقا

کہ تیرے دَر کے غُلاموں میں میرا نام ہو جائے



میں دیکھتا ہی رہوں بَس تمہارے روضے کو

جَنابِ زہرہ کا صدقہ کوئی ایسی شام آئے