واہ! کیا جُود و کرم ہے شہِ بطحا تیرا

نہیں سُنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا


واہ! کیا جُود و کرم ہے...🙏


دھارے چلتے ہیں عطا کے وہ ہے قطرہ تیرا

تارے کِھلتے ہیں سخا کے وہ ہے ذرّہ تیرا


واہ! کیا جُود و کرم ہے...🙏


میں تو مالک ہی کہوں گا کہ ہو مالک کے حبیب

یعنی محبوب و مُحب میں نہیں میرا، تیرا


واہ! کیا جُود و کرم ہے..🙏


تو جو چاہے تو ابھی میل میرے دل کے دھلیں

کہ خدا دل نہیں کرتا کبھی میلا تیرا


واہ! کیا جُود و کرم ہے..🙏


ایک میں کیا میرے عصیاں کی حقیقت کتنی

مجھ سے سو لاکھ کو کافی ہے اشارہ تیرا


واہ! کیا جُود و کرم ہے..🙏


تیرے قدموں میں جو ہیں غیر کا منہ کیا دیکھیں

کون نظروں پہ چڑھے دیکھ کے تَلوا تیرا


واہ! کیا جُود و کرم ہے..🙏


🌹صَلَّی اللہُ عَلَیہِ واٰلِہٖ وَسَلِّم 🌹