غلامِ شاہِ بطحا ہوں تو مجھ کو کیا سمجھتا ہے,


درے خواجہ کا منگتا ہوں تو مجھ کو کیا سمجھتا ہے۔


کہا شبیر نے للکار کے شمر لعین سن لے،


علی حیدر کا بیٹا ہوں تو مجھ کو کیا سمجھتا ہے۔


وہ جس نے پھاڑ ڈالا شیر کو بغداد کا ہے در،


اسی کُتّے کا کُتّا ہوں تو مجھ کو کیا سمجھتا ہے۔


میں ہوں غوث الوریٰ اور صابر کلیر کا مستانا،


کِچھوچھا پہِ میں مرتا ہوں تو مجھ کو کیا سمجھتا ہے۔


مُجدّد نے کہا اکبر چڑھا دے مُجھ کو سولی پر ،


نہیں تجھ سے میں ڈرتا ہوں تو مجھ کو کیا سمجھتا ہے۔


لگا لے زور چاہے ہندسے میں جا نہیں سکتا ،


میں خواجہ بسایا ہو تو مجھ کو تو کیا سمجھتا ہے۔


ہے نسبت سیدے سالار سے وارث سے الفت ہے،


مگر رضوی میں پکّا ہوں تو مجھ کو کیا سمجھتا ہے۔


میں بچپن سے ہوں دیوانہ شہِے احمد رضا خاں کا،


بریلی کا میں شِٕٔدہ ہو تو مجھ کو کیا سمجھتا ہے۔


ہے خونِ قادری مجھے میں شباہت مجھ کو کہتے ہیں،


اسیر اختر رضا کا ہوں تو مجھ کو کیا سمجھتا ہے،