•  

  •  
  • سب سے اچھا انسان وہ ہے جو دوسروں کی مدد کرے ایسے خشک عابد کی عبادت کسی کام کی نہیں جو کسی عسرت ومصیبت میں دوسروں کی مددنہیں کرتا ۔ 
  •  آخرت کا توشہ کمانا چاہتے ہو تو محبوب حقیقی کی محبت کو اپناؤ ۔
  •   جب تک مسلم قوم قرآن کریم اور اسوہ حسنہ رسول نام پرمل پیرا نہ ہو گی اس طرح تباہ ہوتی رہے گی ۔ 
  •   انسان وہی ہے جو اپنے دل سے تکبر اور بڑائی کو نکال کر جلا دے اور حرص وطمع کو گہرے کنویں میں پھینک دے ۔ 
  •    انسان اور خدا کے درمیان سب سے بڑے حجاب تکبر اور حرص وطمع ہیں ۔ 
  •    دنیا میں تین چیزیں ایسی ہیں جن کی محبت میں انسان خدا کو بھول جاتا ہے یعنی زان زر اور زمین ۔ 
  •     حکماء کے نزدیک انسان کے عناصر اربعہ آگ ، پانی ، مٹی اور ہوا ہیں مگر میرے کھے اربعہ عناصر نہیں ہیں بلکہ میرے عناصر اربعہ میں تمام کائنات کو بنا کر اس میں خود اللہ ہی کا جلوہ نظر آتا ہے ۔ بچے میں وہ جلوہ گر ہے ۔ ماں باپ میں وہ جلوہ گر ہے زندگی موت میں پھول اور خوشبو میں وہ موجود ہے غرض یہ کہ کائنات کے ذرے ذرے میں خدا کا نور چمک رہا ہے ۔
  •    اس علم کا کیا فائدہ جس سے اپنے سے باہر تو روشنی پھیلی ہوئی ہو اور من میں اندھیرا ہی اندھیرا نظر آۓ ۔ 
  •    مصیبتیں اور دکھ عاشق کا زیور ہیں فرشتوں کا نہیں ۔
  •     طرز فکر کا بیج ہمیشہ مرشد ہوتا ہے ۔ 
  •    اگر دنیا کی ندی کو پار کرنا چاہتے ہو تو اپنے وجود کوکشتی بناؤ ۔ 
  •     عشق کی بازی ایسی بازی ہے جسے فرشتے بھی کھیلنے پر راضی نہیں ۔ 
  •      مسیحا وہی کہلا سکتا ہے جس کے پاس دکھ درد کا علاج شافی موجود ہو اور وہ صرف ذات ربانی ہے ۔ 
  •       عشق کی مستی ایک ایسی مستی ہے کہ جس کے ذریعے اللہ تعالی کے دوستوں نے اپنی ہستی کو پالیا اور دنیا میں گونگے اور اندھے بن گئے ۔ 
  •         حج مکمل نہیں ہوتا جب تک دل کو خانہ کعبہ نہ بنایا جاۓ ۔ 
  •        عشق کا معاملہ اس طرح سے ہے کہ جس تن لاگے وہی جانے دوسرا محض خاک چھانے ۔ 
  •         جس نے خود کو دنیا اور دنیا کی آلائشوں سے الگ کیا اس نے کسب فقر پایا ۔ 
  •        شریعت دائی اور طریقت ماں ہے اس لیے کچھ حاصل کرنا چاہتے ہو تو معرفت سے حاصل کرو ۔ 
  •         ایک ہی علم نافع ہے اور وہ علم لدنی ہے جس کا سبق الف اللہ اور میم محمد۔
  •         جب تک خواب غفلت نہ چھوڑا جاۓ من کے موتی و جواہرات سے محروم رہنا پڑتا ۔
  •         عشق کا خریدار وہ ہے جوعشق کی منڈی میں اپنا سر دے کر عشق کا مول چکاۓ ۔
  •         عارضی ٹھکانے یعنی دنیا کو چھوڑ اور بیٹی کے ٹھکانے یعنی آخرت کی فکر کر کیوں کہ دنیا تو محض ایک مسافر خانہ ہے جہاں چند ساعتیں گزار کر کارواں منزل مقصود کی طرف بڑھ جاتے ہیں ۔ 
  •          واصل الہی ہونے کے لیے عشق کی تلوار سے ذات کی دوئی کو کاٹ دینا ہی جواں مردی ہے ۔ 
  •           جو علم بے عمل ہے وہ من کے کھوٹ کو کھر انہیں بنا سکتا ۔ کے عشق میں شرم و حیا کا کیا کام ؟ اگر ناچنے سے محبوب مل سکے تو اس سے اچھا کام کیا ہوسکتا ہے ۔ 
  •           بلا وصل محبوب کے تمام ہارسنگھار بے کار ہیں ۔ 
  •           حقیقی عاشق وہی ہے جو اللہ تعالی کو وحی کے بجاۓ براہ راست دیدار سے جانے کا خواہش مند ہو ۔