انصاف پسند منصف کو چاہیے کہ مقدمات کا فیصلہ جلد کرے تا کہ دعوے کرنے والے کو دیر کے سبب کہیں اپنے دعوے سے دستبردار نہ ہونا پڑے۔
اگر کوئی بکری کا بچہ فرات کے کنارے مر گیا تو اللہ قیامت کے دن عمر ( ﷺ ) سے سوال کرے گا ۔
خدا اس شخص پر رحمت نازل فرمائے جو میرے عیوب سے مجھے مطلع کرتا کے تم صرف کسی کی نماز روزہ کو دیکھ کر اسے پارسا مت سمجھو بلکہ یہ دیکھو کہ بات کرتا ہے تو سچ بولتا ہے کہ نہیں ؟ جب اسے امین بنایا جاۓ تو امانت کا خیال رکھتا ہے یا نہیں ؟ اور تقوی اور پرہیز گاری کی وجہ سے گناہ چھوڑتا ہے یا نہیں۔
تم میں سے بہتر وہ نہیں جو آخرت کے لیے عمل کرے اور دنیا کو ترک کر دے دنیا کے لیے محنت کرے اور آخرت کو بھلا دے بلکہ تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو دنیا سے بھی فائدہ اٹھاۓ اور آخرت کے لیے بھی تگ و دو کرے ۔ دنیا میں ضرورت سے زیادہ دلچسپی نقصان دہ ہے محض اس کے حصول میں کوئی حرج نہیں۔
حقیقی متوکل وہ ہے جو دانہ زمین میں ڈالتا ہے اور پھر اللہ پر بھروسا کرتا ہے۔ کوئی رزق کی تلاش سے عاجز ہو کر بیٹھ جائے اور کہے : اے اللہ ! مجھے رزق عطا فرما ۔ یہ درست نہیں ۔ اسے علم ہونا چاہیے کہ آسمان سے سونے اور چاندی کی بارش نہیں ہوتی بلکہ اللہ تعالی لوگوں کو ( محنت اور کوشش کے باعث ) ایک دوسرے کے ذریعے سے رزق عطا کرتا ہے۔
آپ جب کسی ایسے نوجوان کو دیکھتے جو سر اور کمر جھکا کر چل رہا ہوتا تو اسے زور دار آواز سے کہتے : برخوردار ! اپنا سر اوپر اٹھاؤ ، جتنا خشوع وخضوع دل کے اندر ہو اس سے کچھ کم ہی چہرے پر ظاہر ہونا چاہیے ۔ دلی خشوع سے زیادہ ظاہر کرنے والا منافقت کا مظاہرہ کرتا ہے۔
خدا کی قسم ! تمہارا ہر کمزور آدمی میرے نزدیک سب سے قوی ہے ، جب تک کہ اس کا حق وصول نہ کرلوں اور تمہارا ہر طاقتور آدمی میرے نزدیک سب سے کمزور ہے ، جب تک کہ اس سے حق وصول نہ کرلوں ۔
خدا کی قسم ! تمہارا جو معاملہ میرے سامنے پیش ہو گا ، میں اپنے سوا کسی دوسرے کے ذمہ نہ کروں گا ۔
تم نے لوگوں کو کب سے غلام بنا دیا ان کی ماؤں نے تو انہیں آزاد جنا تھا ۔
عوام میں اس وقت تک ٹیڑھ پیدا نہیں ہوتی جب تک ان کے پیشوا اور رہنما ان سے سیدھے رہتے ہیں ۔
جب تک حاکم اللہ کی راہ میں چلتا رہتا ہے رعایا اس کے پیچھے پیچھے چلتی ہے لیکن جہاں اس نے پاؤں پھیلاۓ رعایا اس سے پہلے پاؤں پھیلا دیتیے
0 Comments