میں خلیفتہ اللہ نہیں ، خلیفہ رسول اللہ ﷺ  ہوں اور اسی لقب سے خوش ہوں ۔ 

 مؤمن کے لیے اتناعلم کافی ہے کہ اللہ عز وجل سے ڈرتا ر ہے ۔ 

 عدل وانصاف ہر ایک سے خوب ہے لیکن مومن سے خوب تر ہے ۔ 

 گناہ سے توبہ کرنا واجب ہے مگر گناہ سے بچنا واجب تر ہے ۔

  شرم مردوں سے خوب ہے مگر عورتوں سے خوب تر ہے ۔

   توبہ بوڑھے سے خوب اور جوان سے خوب تر ہے ۔

  گناہ جوان کا بھی اگر چہ بد ہے لیکن بوڑھے کا بدتر ہے ۔

   مشغول ہونا دنیا کے ساتھ جاہل کا بد ہے لیکن عالم کا بدتر ہے ۔ 

   تکبر کرنا امیروں کا بد ہے لیکن محتاجوں کا بدتر ہے ۔

    تواضع غریبوں سے خوب ہے لیکن امیروں سے خوب تر ہے ۔ 

    جسے رونے کی طاقت نہ ہو ، وہ رونے والوں پر رحم ہی کیا کرے ۔

     زبان کوشکوہ سے روک ، خوشی کی زندگی عطا ہوگی ۔ 

     شکرگزار مؤمن عافیت سے قریب تر ہے ۔ 

     جہاد کفار اصغر ہے اور جہادنفس جہادا کبر ہے ۔ 

      خوف الہی بقدرعلم ہوتا ہے اور اللہ تعالی سے بے خوفی بقدر جہالت ۔

      خلقت سے تکلیف دور کر کے خود اٹھا لینا حقیقی سخاوت ہے ۔ 

      اس ان پر رو جو تیری عمر کا گزر گیا اور اس میں نیکی نہیں کی ۔ 

       صبر میں کوئی مصیبت نہیں اور رونے میں کچھ فائدہ نہیں ۔ 

        عورتوں کو سونے کی سرٹی اور زعفران کی زردی نے ہلاک کر رکھا ہے ۔ جوشخص ابتدائے اسلام میں مر گیا وہ بہت خوش نصیب تھا ۔ 

        جاہ وعزت سے بھا گوتو عزت تمہارے پیچھے پھرے گی ۔ 

        علم پیغمبروں کی میراث ہے اور مال کفار ، فرعون و قارون وغیرہ کی ۔ 

         ہر چیز کے ثواب کا ایک اندازہ ہے سواۓ صبر کے کہ وہ بے اندازہ ہے ۔ پرانے گناہوں کونئی نیکیوں سے مٹاؤ ۔ 

          مصیبت کی جڑ کی بنیاد انسان کی گفتگو ہے ۔

           طالب دین عمل میں زیادتی کرتا ہے اور طالب دنیا علم میں ۔ 

           عمل بغیر علم کے ستقیم و پیار اورعلم بغیر عمل کے عقیم ( بانجھ ) و بے کار ہے ۔ 

            تو دنیا میں رہنے کے سامانوں میں لگا ہے اور دنیا تجھے اپنے سے نکالنے میں سر گرم ہے ۔

             عبادت ایک پیشہ ہے ، دکان اس کی خلوت ہے ، راس المال اس کا تقوی ہے اور نفع اس کا جنت ہے ۔ 

              ہرگز کوئی شخص موت کی تمنا نہیں کرے گا سوائے اس کے جس کو اپنے عمل کی چی پر یقین ہو گا ۔ 

              اخلاص یہ ہے کہ اعمال کا عوض نہ کیا ہے ۔

               دنیا کو آخرت کے لیے اور آخرت کو اللہ تعالی کے لیے چھوڑ دے ۔ 

               سو درہم میں سے اڑھائی درہم دنیاداروں کی زکوۃ ہے اور صدیقوں کی زکوۃ تمام مال کا صدقہ کردینا ہے۔

            لوگو ! اللہ تعالی سے شرم کرو ۔ میں جب بھی میدان میں قضائے حاجت کے لیے جاتا ہوں تو اللہ تعالی سے شرما کر سر نیچے کر لیتا ہوں ۔ 

             جس پر نصیحت اثر نہ کرے وہ جان لے کہ میرا دل ایمان سے خالی ہے ۔ 

             وہ علاحق تعالی کے دشمن ہیں جو امرا کے پاس جاتے ہیں اور وہ امراحق تعالی کے دوست ہیں جو علما کے پاس جائیں ۔ 

             وہ لوگ بہتر نہیں ہیں جو دنیا کو آخرت کے لیے ترک کر دیتے ہیں بلکہ بہتر وہ ہیں جو دنیا و آخرت دونوں کا حق ادا کر تے ہیں ۔ 

              جو اللہ تعالی کے کاموں میں لگ جاتا ہے اللہ تعالی اس کے کاموں میں لگ جاتا گفتگو میں اختصار سے کام لو کلام اتنا ہی مفید ہوتا ہے

               جتنا آسانی سے سنا جاسکے ، لمبی بات گفتگو کا کچھ حصہ ذہنوں سے ضائع کر دیتی ہے ۔

               بد بخت ہے وہ شخص جو خود تو مر جاۓ اور اس کا گناہ نہ مرے ( یعنی کوئی برا کام جاری کر جاۓ ۔ ) 

               بروں کی ہم نشینی سے تنہائی بدر جہا بہتر ہے اور تنہائی سے صالح بزرگوں کی صحبت 

               اللہ تعالی کی عبادت میں سستی عام لوگوں سے بد ہے 

               لیکن عالموں اور طالب کو صدقہ فقیر کے سامنے عاجزی سے پیش کر کیوں کہ خوش دلی سے صدقہ دینا علموں سے بدتر ہے ۔ 

               قبولیت کا نشان ہے ۔ مصیبت میں صبر کرناسخت ہے مگر صبر کے ثواب کو ضائع کر دینا سخت تر ہے ۔