1. اپنی زبان کی تیزی اس ماں پر مت چلاؤ جس نے تمہیں بولنا سکھایا ۔ 
  2.   بارش کا قطرہ ، سپی اور سانپ دونوں کے منہ میں گرتا ہے ۔ سیپی اسے موتی بنا ۔ دیتی ہے اور سانپ اسے زہر جس کا جیسا ظرف ہو ویسی اس کی تخلیق ہوتی ہے۔
  3.   کوشش کرو کہ تم دنیا میں رہو ! دنیا تم میں نہ رہے ۔ کیوں کہ کشتی جب تک پانی میں رہتی ہے خوب تیرتی ہے لیکن جب پانی کشتی میں آ جاۓ تو وہ ڈوب جاتی ہے 

  4.   اپنی سوچوں کو پانی کے قطروں سے زیادہ شفاف رکھو کیوں کہ جس طرح قطروں سے دریا بنتا ہے اسی طرح سوچوں سے ’ ’ ایمان ‘ ‘ بنتا ہے ۔
  5.    کارخانہ قدرت میں تفکر کرنا بھی ایک عبادت ہے ۔ 

  6.     شرافت عقل وادب سے ہے ، نہ کہ مال ونسب سے ہے 
  7.       کسی سوال کا جواب معلوم نہ ہوتو لاعلمی کا اظہار کردینا نصف علم ہے ۔ 

  8.        اگر کسی پر بھروسا کرو تو آخر تک کرو ، نتیجہ چاہے کچھ بھی نکلے ۔ آخر میں تمہیں ۔ ایک سچا دوست ملے گا یا پھر ایک اچھا سبق ! 
  9.        جس دن ہم اللہ کی نافرمانی نہ کریں ہمارے لیے عید کا دن ہے ۔

  10.        مرد کی سب سے بری عادت عورت کی سب سے اچھی عادت ہے یعنی بخل غرور اور بزدلی کیوں کہ اگر عورت مغرور ہوتو وہ غیر مردوں سے بات کرنا پسند نہیں کرے گی اور اگر بزدل ہوتو وہ ہر چیز سے ڈرے گی اور اپنے گھر سے نہیں نکلے گی ۔ 
  11.        جس نے کوئی کھانے کی چیز حاصل کی اسی خرچ پر اسے فروخت کر دیا تو گویا اس نے اس کا صدقہ کر دیا دوسرے قول کے مطابق گویا اس نے ایک غلام آزاد کر دیا ۔ 

  12.        اللہ تعالی کا محبوب ترین بندہ و فقیر ہے جو اپنے رزق پر قناعت کرے اور اللہ تعالی سے راضی رہے ۔ 
  13.        میرے نزدیک اپنے دینی بھائی کو میں درہم دینا دوسرے مسکینوں پر دو سو در ہم خرچ کرنے سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے ۔

  14.          بدترین دوست وہ ہے جس کی خاطر تکلف کرنا پڑے ۔ 
  15.          جس نے نمک کے ساتھ کھانے کی ابتدا کی اللہ تعالی اس سے سترقسم کی آفات دور کر دے گا ۔

  16.           جس نے ایک دن میں سات عجوہ کھجوریں کھائیں اس کے پیٹ کا ہر مرض مارا گیا اور جس نے ہر روز اکیس کشمش سرخ کھائیں وہ اپنے جسم میں کوئی نا پسند یدہ شکایت نہ دیکھے گا ۔
  17.           حلال دنیا حساب ہے اور حرام دنیا عذاب ہے 

  18.            بے گھر وہ ہے جس کا کوئی دوست نہیں ۔
  19.            سب سے برا گھر وہ حمام ہے جس میں ستر ظاہر ہو اور حیا رخصت ہو 

  20.             جس کا ظاہر اس کے باطن سے زیادہ اہم ہو قیامت کے دن اس کا اعمال نامہ ہلکا ہوگا اور جس کا باطن اس کے ظاہر سے زیادہ اہم ہو اس کا اعمال نامہ وزنی ہوگا ۔ 
  21.              مجھے ایک غلام آزاد کرنے کے مقابلہ میں یہ زیادہ محبوب ہے کہ ایک دفعہ کھانے پر اپنے بھائیوں کو جمع کروں ۔ 

  22.               ایمان ایک سفید چمک بن کر ظاہر ہوتا ہے جب بندہ نیک اعمال کرتا ہے تو وہ روشنی بڑھ جاتی ہے یہاں تک کہ اس کا سارا قلب روشن ہو جا تا ہے ۔ 
  23.             رزق کی دوقسمیں ہیں ایک وہ رزق جو تجھے تلاش کرے دوسرا وہ رزق جس کو تو تلاش کرے ۔ 

  24.             جب اللہ تعالی کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے ابتلا میں ڈالتا ہے اب اگر اس نے صبر کیا تو اسے چن لیتا ہے اور اگر راضی ہو گیا تو اسے برگزید بنا لیتا ہے 
  25.              اللہ تعالی ہی کوعلم ہے کہ اس کے بعد دنیا کے ساتھ کیا کرے گا

  26.              یہ اس کے سر بستہ راز میں سے ہے جسے حاکم تعالی نے مخفی رکھا ہے ۔
  27.              اپنے اور اللہ کے درمیان کسی کو رازق نہ مجھو اور غیر اللہ کی نعمت کو اپنے اوپر شمار کرو۔

  28.               اللہ تعالی ہر کیفیت سے پاک ہے وہ شہ رگ سے قریب تر ہے ۔ 
  29.               وہ اپنی بلندی میں تنہا ہے کوئی چیز اس کے لیے رکاوٹ نہیں اس کی مخلوق کی اطاعت اس کا کوئی نفع نہیں ، پکارنے والوں کے لیے اس کا جواب آنا فاناہے

  30.