71۔ بے سکونی تمنا کا نام ہے ۔جب تمنا تابع فرمان الٰہی ہو جائے تو سکون شروع ہو جاتا ہے۔


72-کسی تنگ دل کا مال نہ کھاؤ، اس کے ہاں کھانا بھی نہ کھاؤ، تنگ دل انسان سے بچ کے رہو تو سکون مل جائے گا۔ سخی دل انسان سے ملا کرو،سخی دل سے اگر تم کچھ لے بھی لو گے تو وہ تمہارے لیے دعا کرے گا۔


73-مرنے کے دو ہی طریقے ہیں، غم مل جائے یا خوشیاں چلی جائیں۔


74-دشمن گھر میں آجائے یا دوست بھر سے چلا جائے، دونوں حالتوں میں مصیبت ہے۔


75-مغربی تہذیب اپنے منطقی انجام کو پہنچ گئی ہے ان کی کوئی لذت ایسی نہیں رہ گئی جو گناہ نہ ہو۔

76-جہاں آپ اللہ کے سامنے جواب دہ ہیں وہاں آزاد نہ ہونا،اور جہاں آزاد ہیں وہاں پر پابند نہ ہونا۔


77-مغرب کے ساتھ مقابلہ اس وقت کرو جب آپ مشرق بن جاؤ۔


78-اگر آپ یوسف (ع) ہیں تو آپ کے گیارہ بھائی بھی موجود ہیں جو بھائی کے ساتھ ظلم کرنے والے ہیں اور بھائی کے مرتبے کے ساتھ ظلم کرنے والے ہیں ۔سارا قرآن اس بات سے بھرا پڑا ہے کہ جب اپنوں نے اپنوں کو دحوکہ دیا وہاں کوئی علاج نہیں ہو سکا۔


79-جب تک آپکو اپنی تمنا کے منظور ہونے سے حاصل ہونے والی چیز کی ماہیت کا پتہ نہ ہو، اس وقت تک دعا نہ کرو۔


80۔ بزرگوں نے اللہ کے فضل و کرم کو مانگنے کا طریقہ یہ بتایا ہے کہ اللہ سے فضل و کرم نہ مانگو، جو کر رہا ہے وہ فضل و کرم ہے۔


81-آجکل مفاد پرست کے پاس اپنے مفاد کا تحفظ سیاست کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے۔


82-اپنی ہستی سے زیادہ کام کرنا ہلاکت ہے اور اپنی ہستی سے کم کام کرنا بد دیانتی ہے۔


83-کبھی بادشاہ بننے کے لئے دعا نہ کرنا ورنہ دعا کے ذریعے حاصل ہو جانے والی بادشاہی کے اندر اگر کوئی ظلم اور تلخی ہوئی تو اس کے ذمہ دار تم ہو گے۔


84-ہر دن کی قیامت ہو روز شام کو ہو جاتی ہے۔


85-زندہ رہنا چاہو تو موت قیامت ہے اور مرنا چاہو تو زندگی قیامت ہے۔


86- ایک آدمی دلیری سے سچ بات کرنے لگ جائے تو باقیوں کا چھپا ہوا سچ ظاہر ہو جائے گا۔


87-دین سے اس طرح محبت کرو جس طرح دنیا دار دنیا سے کرتا ہے۔


88-اگر زندگی کا کیا ہوا “حاصل“ آخرت میں کام نہیں آنا تو اس حاصل کو محرومی کہو۔


89-ہر آدمی اپنے سے زیادہ دانا کے سامنے بے وقوف ہے اور آپ کو آپ سے بڑا دانا ہمیشہ ملے گا۔


90-بہت سارے سوالات سے نکل کر جب آدمی ایک سوال میں داخل ہوتا ہے تو اس کا سفر واضح ہو جاتا ہے۔


91-دانائی دانا کی تابعداری ہے۔


92-جب تک اپنے آپ کو اللہ کے آگے پوری طرح جوابدہ نہ پاؤ، کسی انسان کو اپنے سامنے جوابدہ نہ کرنا۔


93-جو اقتدار میں ہیں وہ جاننے والے نہیں اور جو جاننے والے ہیں وہ اقتدار سے باہر ہیں۔


94-جب تک کوئی آپ سے نہ پوچھے مبلغ نہ بنو۔


95-ہم ہر دن کا ماتم کرنے ہیں اور ہر صبح کو خوش آمدید کہتے ہیں۔


96-جن لوگوں نے اپنی زندگی میں اللہ کو یاد رکھا، لوگوں نے ان کی زندگی کے بعد بھی ان کو یاد رکھا۔


97-خودی کسی شے کا وہ جوہر خاص ہے جس کے نہ ہونے سے

وہ شے نہیں ہوتی۔


98-قائم ذات سے محبت کرو گے تو تم بھی قائم ہو جاؤ گے۔


99-غرور اس صفت کو کہتے ہیں جو مٹ جائے یا مٹ سکے۔


100-اللہ کا جلوہ اگر طور کے درخت سے بول سکتا ہے تو کیسے ممکن ہے کہ انسان سے نہ بول سکے۔